Michael Sandel: Why we shouldn't trust markets with our civic life

Michael Sandel: Why we shouldn't trust markets with our civic life

SUBTITLE'S INFO:

Language: Urdu

Type: Human

Number of phrases: 279

Number of words: 2214

Number of symbols: 7790

DOWNLOAD SUBTITLES:

DOWNLOAD AUDIO AND VIDEO:

SUBTITLES:

Subtitles prepared by human
00:00
Translator: Muhammad Waqas Hamid Reviewer: Syed Irteza Ubaid یہاں ایک سوال ہے جس کے بارے میں ہم سب کو مل کے سوچنا چاہیے: رقم (پیسوں) اور مارکیٹوں کا ہمارے معاشرے میں کردار کیا ہونا چاہیے ؟ دور جدید میں صرف کچھ چیزیں ایسی ہیں جو پیسا خرید نہیں سکتا. گر آپ کچھ عرصے کے لئے سانتا باربرا، کیلی فورنیا کے جیل میں قید ہو جائیں, تو آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ اگر آپ کو ایک معیار کا رهن سہن پسند نہیں آیا, تو آپ کچھ رقم کے عوض, اونچے درجے والا جیل خانہ خرید سکتے ہیں. یہ بلکل درست ہے، آپ کے خیال میں کتنی رقم؟ آپ کا اندازہ کیا ہوگا ؟ پانچ سو ڈالر ؟ یہ Ritz-Carlton نہیں ہیں، یہ جیل ہے. ایک رات کے لئےصرف بیاسی ڈالر. ایک رات کے لئےصرف بیاسی ڈالر. اگر آپ کسی تفریحی پارک میں جائیں اور مشہور سواریوں کے لئے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا نہیں چاہتے , تو اب اس کا ایک حل ہے. بہت سے تفریحی Theme پارک میں آپ زائد رقم ادا کر کے
01:09
اگلی قطار میں جگہ لے سکتے ہیں. ایسے ٹکٹوں کوFast Track یا VIP ٹکٹ کہتے ہیں. اور یہ صرف تفریحی پارک میں نہیں ہو رہا. Washington, D.C. میں لمبی لائنیں، قطاریں تشکیل پا جاتی ہیں اہم کانگریس کی سماعتوں کے لئے. اب لوگ لمبی قطار وں میں انتظار نہیں کرنا چاہتے, شاید پوری رات یا بارش میں. تو اب ترغیب کار اور دوسروں کے لئے جو یہ کانگریس کی سماعتین سننا چاہتے ہیں لیکن انتظار نہیں کرنا چاہتے , تو کچھ کمپنیاں ہیں, لائن کھڑی کمپنیاں, آپ انکے پاس جا سکتے ہیں. آپ انکو ایک خاص رقم ادا کر سکتے ہیں, اور وہ بے گھر لوگوں اور دوسروں کو جنہیں نوکری کی ضرورت ہو, کام دیتے ہیں کہ وہ لائن میں کھڑے رہیں, کتنی بھی دیرکے لئے اور ترغیب کار، سماعت کے آغاز سے عین پہلے, قطار کے آغاز میں جگہ لے لیتے ہیں اور کمرے کے سامنے کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں. کرایہ کی قطار بندی. یہ ہورہا ہے، مارکیٹوں کے طریقہ کار کو مدد اور کاروبار کی سوچ اور کاروبار کے حل کے لئے ,
02:10
بڑے میدانوں میں. .آپ اسی کو لے لی جی، ہم جیسے جنگ لڑتے ہیں. کیا آپ کو پتا تھا کے عراق اور افغانستان میں, میدان میں نجی عسکری ٹھیکیدار تعداد میں زیادہ تھے امریکن عسکری کی نسبت ؟ اب یہ اس لئے نہیں ہے کے ہمارے ہاں ایک عوامی بحث ہوئی کہ آیہ ہم جنگ ٹھیکے پہ دینا چاہتے تھے نجی عسکری کو, لیکن یہ ہی ہے جو دراصل ہوا. ماضی کی ٣ دہاییوں سے, ہم خاموش انقلاب میں رہتے آرہے ہیں. ہم نے اس عرصے کو بغیر محسوس کئے ہی گزار دیا ہے کاروباری معیشت سے لے کے کاروباری معاشره بننے تک. فرق صرف یہ ہے : کاروباری معیشت ایک آلہ ہے, قیمتی اور بااثر, پیداواری عمل کو منظّم کرنے کے لئے, لیکن کاروباری معاشرہ وہ جگہ ہے جہاں ہر چیز براے فروخت ہے.
03:10
یہ زندگی کا طریقہ کار ہے جہاں کاروباری سوچ اور کاروباری اقدار غالب ہونا شروع ہوتے ہیں ہر زندگی کے پہلو پر ذاتی تعلقات، خاندانی زندگی، صحت، تعلیم، .سیاست، قانون، شہری زندگی تو کیوں فکر مند ہوں ؟، کیوں فکر مند ہوں اپنے کاروباری معاشرے کی تشکیل پر؟ مرے خیال میں ٢ وجوہات کی بنا پر ایک وجہ عدم مساوات ہے جتنی زیادہ چیزیں پیسا خرید سکے، اتنی ہی بہتات، یا اسکی کمی اہمیت رکھتی ہے اگر کوئی ایک چیز جو پیسے پہ مکمّل انحصار کرتی ہو جیسا کہ یاٹ، پراسایش تفریح، یا BMWs توعدم مساوات زیادہ اہمیت نہ رکھےگی لیکن جب پیسا زیادہ سے زیادہ ایک اچھی زندگی کے بنیادی پہلو پر اثر انداز کرنے لگے --
04:12
نفیس علاج، بہترین تعلیم کو رسائی سیاسی آواز، اور مہمّات میں اثر -- جب پیسا ان سب چیزوں پر حکومت کرنے لگتا ہے تو عدم مساوات بہت وقعت رکھتی ہے اور ہر چیز کی قیمت مقرّر ہوجانا عدم مساوات کے ڈنگ کو مزید تیز کر دیتا ہے اور اسکے معاشرتی اور شہری نتیجوں کو یہ فکر مند ہونے کی ایک وجہ ہے ایک دوسری وجہ بھی ہے عدم مساوات کی فکر کے علاوہ اور وہ یہ ہے : کچھ social goods (اشیا ) اور عمل کے ساتھ جب کاروباری سوچ اور کاروباری اقدار داخل ہوتے ہیں وہ ان عمل کی روح کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں اور رویوں اور معیار کو خارج کر دیتے ہیں زیادہ توجہ کے لائق میں ایک مثال دینا چاہونگا کاروباری نظام کے متنازعہ استعمال کی پیسوں کی ترغیب، اور دیکھیں اپ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں
05:15
بہت سے اسکول بچوں کو محرک کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں, خاص طور پہ وہ بچے پسماندہ زندگی سے اسکول اتے ہیں, اچھا پڑھنے کے لئے اسکول میں اچھا کرنے کے لئے، تاکہ وہ کچھ سیکھ سکیں کچھ ماہرین اقتصادیات نے ایک حل پیش کیا : کہ اچھے گریڈ لینے کے لیے انہیں پیسے دیے جائیں یا اچھے امتحانی نمبر یا پھر کتابیں پڑھنے کے لئے انہوں نے یہ اصل میں آزمایا انہوں نے کچھ تجربے کئیے خاص امریکن شہروں میں نیو یارک میں، شکاگو میں، واشنگٹن ڈی سی میں انہوں نے یہ آزمایا، ٥٠ ڈالر A گریڈ کے لئے ٣٥ ڈالر B گریڈ کے لئے ڈلاس ،ٹیکساس میں ایک ایسا پروگرام ہے جو جس کے تحت ہر کتاب پڑھنے پر ٨ سالا بچے ک ٢ ڈالر دیتے ہیں تو دیکھتے ہیں-- کچھ لوگ اس پروگرام کے حق میں ہیں کچھ لوگ اس پروگرام کی مخالفت کرتے ہیں کامیابی پانے کے اس پروگرام کی تو دیکھتے ہیں آپ لوگ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں تصور کریں اگر آپ اہم اسکول سسٹم کے ہیڈ ہوں
06:19
اور کوئی آپ کے پاس یہ تجویز لے کے ائے اور سوچیں کہ ایک فاؤنڈیشن ہے جو فنڈ دیگی آپ کو اپنے بجٹ میں سے دینے کی ضرورت نہیں ہے آپ میں سے کتنی اس کی حمایت میں ہیں ؟ اور کون اس کی مخالفت کرینگے ؟ ہاتھوں سے دیکھتے ہیں آپ میں سے کتنے سمجھتے ہیں کے کہ ایسی کوشش نہیں کرنی چاہیے دیکھنے کے لئے اگر یہ کام کرے ؟ اپنے ہاتھ بلند کریں کتنے اس کی مخالفت کرینگے ؟ کتنے کرینگے ؟ تو اکثریت یہاں پہ مخالفت میں ہیں لیکن کچھ کثیر تعداد میں اس کی حمایت میں ہیں آیے بحث کرتے ہیں ان سے آغاز کرتے ہیں جو مخالفت میں ہیں کون اس کو آزمانے سے پہلے ہی مسترد کر دینگے اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہماری بحث کون شروع کروائیگا ؟ Heike Moses: ہر کسی کو مرحبا ، میں Heike Moses ہوں اور مر ے خیال میں یہ ترغیب کی اصل وجہ کو ختم کر دیتی ہے تو بچوں کے لئے اگر وہ پڑھنا چاہتے ہیں آپ یہ انعام واپس لے لیں ان کو پیسے دینے سے انکا کردار تبدیل ہوجاتا ہے تو فطری محرکات کو ختم کر دیتی ہے
07:21
تو فطری محرکات کیا ہیں یا کیا ہونے چاہییں ؟ Heike Moses: اچھا، تو فطری محرکات سیکھنا ہے سیکھنا : Michael Sandel دنیا کو پہچاننا ہے : Heike Moses اور جب آپ انکو پیسے کی ادائیگی روک دیں ؟ پھر کیا ہوگا ؟ پھر وہ پڑھنا ختم دینگے ؟ Michael Sandel: اب دیکھتے ہیں اگر کوئی ہے جو حمایت کرتا ہے کون سمجھتا ہے یہ آزمانا بہتر ہے ؟ Elizabeth Loftus: ہوں Elizabeth Loftus میں اور آپ نے کہا کہ یہ آزمانا بہتر ہو تو کیوں نہ آزمایا جائے اور تجربہ کریں اور چیزوں کو ناپیں MS: اور ناپیں، اور آپ کیا ناپینگی ؟ آپ ناپینگی کہ کتنے -- EL: کہ وہ کتنی کتابیں پڑھتے ہیں اور وہ کتنی کتابوں کو پڑھنا جاری رکھتے ہیں .. جب آپ انکو پیسے دینا بینڈ کر دیتے ہیں MS: اوہ، تو جب آپ انکو پیسے دینا بینڈ کر دیں ؟ ٹھیک ٹھیک، اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ HM: اگر سہی کہوں تو میں سوچتی ہوں کسی کی توہین کرنے کا مقصد نہیں رکھتی ، یہ ایک بہت امریکن طریقہ ہے (ہنسی) ,(تالیاں) MS: ٹھیک ٹھیک، اس بحث سے جو حاصل ہوا
08:21
وہ یہ سوال ہے کیا پیسوں کی ادائیگی ختم، یا بدعنوان، یا بڑی ترغیب کو روند دیتی ہے ؟ جو اصلی سبق ہم پہنچانے کی امید کرتے ہیں وہ سبق ہےسیکھنے کی لگن اور پڑھنے کا انکے اپنے لیے اور لوگ ان کےہونے والے اثرات سے اختلاف کرتے ہیں لیکن وہ ایک سوال بنتا ہے کہ کسی تارہا مارکیٹ کا طریقہ کار یا پیسوں کی ادائیگی غلط سبق سکھاتی ہے اور اگر یہ سکھاتی ہے تو پھر ان بچوں کا بعد میں کیا بنے گا ؟ مجھےآپ کو یہ بتانا چاہیے کہ ان تجربوں سے کیا ہوا ؟ اچھے گریڈ کے لئے پیسوں کا بہت ملا جلا نتیجہ نکلا بہت دفعہ، اس سے بہتر گریڈ نہیں آیے ہر کتاب کے لئے ٢ ڈالر ان بچوں کو زیادہ کتابیں پڑھنے کی طرف لے گیا لیکن انکو مزید چھوٹی کتابیں پڑھنے کی طرف بھی لے گیا (ہنسی )
09:22
لیکن اصل سوال ہےکہ ان بچوں کا بعد میں کیا بنے گا ؟ کیا انہوں نے سیکھ لیا ہوگا کے پڑھنا چھوٹا موٹا کام ہے ؟ ایک چھوٹا سا کام جو پیسوں کے لئے کیا جاتا ہے، یہ اصل فکر مندی ہے یہ پھر شروع میں شاید وہ غلط مطلب کے لئے پڑھنے کی طرف رغیب ہوں اور بعد میں شاید ان کو پڑھنے سے لگآو ہوجاۓ خاص اپنی خاطر ؟ اب یہ کیا ہے؟ یہ ذرا سی بحث نے بھی وہ کچھ اخذ کر لیا ہے جو بہت سے ماہر اقتصادیات نظر اندار کر دیتے ہیں ماہر اقتصادیات اکثر یہ فرض کرتے ہیں کہ مارکیٹیں بے حرکت ہیں کہ وہ کسی ایسی چیز کو چوتی یا نقصان نہیں پہنچاتیں جن کا وہ تبادلہ کرتی ہیں مارکیٹوں میں تبادلہ، وہ فرض کرتے ہیں کہ مطلب یا قیمت تبدیل نہیں کرتا ان چیزوں کی جو ردوبدل ہورہی ہوں یہ شاید کافی درست ہو اگر ہم مادہ چیزوں کی بات کریں اگر آپ مجھے فلیٹ سکرین ٹی وی بیچیں یا تحفہ کر دیں وہ ایک ہی ٹی وی ہوگا وہ ایک ہی طرح کام کریگا لیکن اسی کو ہم دوسری طرح درست نہیں مان سکتے اگر ہم غیر مادی چیزوں کی بات کر رہے ہوں
10:23
اور معاشرتی اعمال جیسا کہ تعلیم اور تربیت یا بلدیاتی زندگی میں آپس میں میل ملاپ ایسے حالات میں مارکیٹ کے نظام اور پیسوں کی ترغیب شاید غیر کاروباری اقدار اور ایسے رویوں کو کمزور کر دے جو زیادہ توجہ کے قابل ہیں ہم جیسے ہی دیکھتیں ہیں کہ کاروبار اور تجارت جب مادی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں اشیا کے کردار کو ہی تبدیل کر سکتے ہیں معاشرتی اعمال کے معنی ہی تبدیل کر سکتے ہیں جیسی تربیت اور تعلیم کی مثال میں ہے ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کے کاروبار کہاں سے تعلق رکھتے ہیں اور کہاں سے نہیں جہاں وہ اصل میں اقدار اور ایسے رویوں کو کمزور کر سکتے ہیں جو زیادہ توجہ کے قابل ہیں لیکن اس بحث کے لئے ہمیں وہ کرنے پڑیگا جس میں ہم اچھے نہیں ہیں
11:24
اور وہ سب میں اتفاق رائے ہے اقدار اور معنی کے مطعلق معاشرتی اقدار جن کو ہم اہم سمجھتے ہیں اپنے آپ سے لے کے اپنے اہل خانہ تک ذاتی تعلقات سے لے کے صحت تک تربیت تک اور بلدیاتی زندگی کے سیکھنے تک اب یہ متنازیہ سوال ہیں اسی لئے ہمیں ان سے تھوڑا سکڑنا ( دور ) پڑیگا حقیقت میں پچھلی ٣ دہایوں میں جب کاروباری وجوہات اورکاروباری سوچ کے پاس اجتمائی طاقت اور شہرت ہے ہمارا عام اظہار خیال اندرونی طور پر خالی ہوچکا ہے بارے اخلاقی معنی سے خالی اختلاف رائے کے دار سے، ہم ان سوالات سے دور بھاگتے ہیں لیکن جیسے ہم دیکھیں کہ کاروبار چیزوں کی روح کو تبدیل کر رہے ہیں ہمیں اپنے درمیان مزاکرہ کرنا چاہیے ان بڑے سوالوں کے متعلق کے چیزوں کو کیسے قدر دی جاتی ہے
12:25
بہت زہریلے اثرات میں ایک ہے ہر چیز کی قیمت مقرر کر دینا ہم میں مشترک ہیں یہ احساس کے ہم سب اس میں شامل ہیں عدم مساوات کو بڑھانے کے پس منظر میں زندگی کے ہر پہلو کو کاروباری بنا دینا ایسی حالت کی طرف لے جاتا ہے جہاں وہ جو دولت مند ہیں وہ جن کے پاس شائستہ ذرائع ہیں زیادہ علیحدہ زندگی گذارتے ہیں ہم جیتے ہیں کام کرتے ہیں، خریداری کرتے ہیں اور کھیلتے ہیں مختلف جگہوں پر ہمارے بچے مختلف سکولوں میں جاتے ہیں یہ جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہے نہ ہی یہ زندگی گزارنے کا تسلی بخش طریقہ ہے یہاں تک کہ وہ جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں ان کے لئے جو پیسے دے کر سب سے آگے نکل سکتے ہوں یہ وجہ ہے کیوں جمہوریت کو کامل مساوات کی ضرورت نہیں لیکن جس چیز کی ضرورت ہے وو ہے کہ عوام ایک جیسی زندگی گزاریں
13:28
اہمیت اسکی ہے کہ مختلف معاشروں سے تعلق رکھنے والے لوگ اور زندگی کے مراحل ایک دوسرے کا مقابلہ کریں ایک دوسرے میں ٹکراؤ کریں عام زندگی میں کیونکہ یہ ہی ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ افہام و تفہیم کی جائے اور اپنے اختلافات کو برداشت کیا جائے اور اسی ترھا ہم مشترکہ چیزوں (پہلو) کا کھال رکھتے ہیں تو اب، آخر میں کاروبار کا سوال اصل میں کوئی اقتصادی سوال نہیں ہے یہ اصل میں سوال ہے کہ ہم آپس میں کیسے رہنا چاہتے ہیں کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں چیز برائے فروخت ہو یا کچھ ایسی اخلاقی اور بلدیاتی اقدار ہیں جن کا کاروبار سے کوئی تعلق نہیں اور جو پیسے سے نہیں خریدے جاسکتے؟ آپ کا بہت شکریہ (تالیاں)

DOWNLOAD SUBTITLES: